بھٹکل 13/مئی (ایس او نیوز) اُترکنڑا کی چھ سیٹوں میں سے بھٹکل، کاروار، ہلیال اور سرسی (چار سیٹوں) میں کانگریس کی شاندار جیت کے ساتھ ریاست کرناٹک میں کانگریس پوری شان کے ساتھ اقتدار پر واپسی کرنے میں کامیاب ہوگئی اور بجرنگ بلی کے نام پر ووٹ مانگنے والے مودی کی کوششوں پر پانی پھر گیا۔
10/مئی کو ہوئے اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی آج ریاست کے 36 مراکز میں صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور دو پہر ایک بجنے تک پتہ چل گیا کہ کانگریس جادوئی ہندسہ 113 کو پار کرتے ہوئے شاندار جیت درج کررہی ہے۔ رات آٹھ بجے تک ملی اطلاع کے مطابق کانگریس کو 133 سیٹوں پر کامیابی مل چکی ہے، تین سیٹوں پر کانگریس آگے ہے، اس طرح کانگریس کو 136 سیٹیں مل رہی ہیں، بی جے پی جس کا کمل مُرجھاچکا ہے، 64 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوگئی ہے اور ایک سیٹ پر آگے چل رہی ہے۔اس بار جے ڈی ایس جس کے تعلق سے کہا جارہا تھا کہ یہ کنگ میکر کا رول ادا کرے گی اور اس کے قائد کماراسوامی وزیراعلیٰ بننے کا خواب سجائے سنگاپور پہنچ گئے ہیں، عوام نے یکسر مسترد کردیا اور اُن کے خواب چکنا چور ہوگئے جس کے ساتھ ہی جے ڈی ایس صرف 19 سیٹوں پر سمٹ کررہ گئی۔

ضلع اُترکنڑا میں کانگریس نے شاندار واپسی کی اور چھ سیٹوں میں چار پر کامیاب ہوگئی،ضلع میں کانگریس کوسب سے بڑی کامیابی بھٹکل میں ملی ، قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے حمایت یافتہ کانگریس اُمیدوار منکال وئیدیا نے بی جے پی کے سُنیل نائک کو 32671 ووٹوں سے ہرادیا۔ یہاں جے ڈی ایس اُمیدوار ایڈوکیٹ ناگیندر نائک کو صرف1502ووٹ ملے، حالانکہ 1223 لوگوں نے نوٹا (None of the Above) کا بٹن دبایا۔
اپنا دسواں الیکشن لڑنے والے ہلیال میں کانگریس کے قدآور لیڈر دیش پانڈے بے حد کم فرق سے بی جےپی کے سُنیل ہیگڈے کو ہرانے میں کامیاب ہوگئے۔ ووٹوں کی گنتی کے وقت کبھی سُنیل ہیگڈے اور کبھی دیش پانڈے کو پلہ بھاری پڑتا نظر آرہا تھا، فائنل میں دیش پانڈے کو 3623 ووٹوں سے کامیابی ملی۔
کاروار میں کانگریس کے ستیل سئیل نے بی جے پی کی روپالی سنتوش نائک کو 2138 ووٹوں سے ہرادیا۔سرسی میں اِس بار بی جے پی کے سنئیر لیڈر وشویشور ہیگڈے کاگیری کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں کانگریس کے بھیمنا نائک نے 8712 ووٹوں سے ہرادیا۔ جبکہ ضلع میں یلاپور اور کمٹہ میں بی جےپی کو کم ووٹوں سے ہی سہی، لیکن کامیابی ملی۔ یلاپور میں بی جے پی کے شیورام ہیبار نے کانگریس کے شیونّا گوڈا پاٹل کو 4004 ووٹوں سے ہرادیا۔ جبکہ کمٹہ میں بی جے پی کے دینکر شٹی اور جے ڈی ایس کے سورج نائک سونی کے درمیان کانٹے کی ٹکر اور بالاخر صرف 676 ووٹوں سے دینکر شٹی جیت درج کرنے میں کامیاب رہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل کے ایک الیکشن میں دینکر شٹی کو صرف 20 ووٹوں سے کامیابی ملی تھی۔حیرت انگیز طور پر کانگریس نے سابق ایم ایل اے شاردا شٹی کو ٹکٹ دینے کے بجائے نیویدت آلوا کو ٹکٹ دی تھی، جو صرف 19270 ووٹ ہی حاصل کرسکے۔
پڑوسی ضلع اُڈپی میں تمام پانچ سیٹوں پر بی جےپی کو کامیابی ملی جبکہ دکشن کنڑا کی آٹھ سیٹوں میں چھ سیٹوں پر بی جے پی اور دو میں کانگریس کو کامیابی ملی۔
اُڈپی کے کارکلا میں سنیل کمار نے کانگریس کے اُدے شٹی، اُڈپی اسمبلی حلقہ میں یشپال سورنا نے کانگریس کے پرساد راج کنچن کو ، کاپو میں گُورمے سریش شٹی نے کانگریس کے ونئے کمار سورکے کو، کنداپور میں کرن کمار کوڈگی نے کانگریس کے دنیش ہیگڈے کو اور بیندور میں گُروراج گھنٹی ہوڑے نے کانگریس کے گوپال پُجاری کو ہرادیا۔
دکشن کنڑا کے اُلال اور پتور میں کانگریس کو کامیابی ملی جہاں بالترتیب یوٹی قادر اور اشوک رائے کو کامیابی ملی، جبکہ دیگر چھ حلقوں میں بی جے پی کے باگیرتی موریا(سولیا)، ویداداس کامتھ (مینگلور ساوتھ) ، بھرت شٹی (مینگلور نارتھ)، ہریشن کُنجا (بیلتنگڈی)، اومنا کوٹیان (موڈ بیدری) اور راجیش نائک (بنٹوال) کو کامیابی ملی۔
بتاتے چلیں کہ کانگریس کے قدآور لیڈرس سدرامیا ، ڈی کے شیوکمار ، منی اپّا، پرینک کھرگے، ڈاکٹر جی پرمیشور، ضمیر احمد خان، کنیز فاطمہ، این اے حارث، رضوان ارشد، عبدالرحیم خان، اقبال حُسین، تنویر سیٹھ، آصف سیٹھ جیت درج کرنے کامیاب رہے، جبکہ بی جےپی کے بسوراج بومائی، ارگیانیندرا، سی سی پاٹل، پربھو چوہان، بائراٹی بسوراج، ششی کلا جولّے، مُنیرتنا ، جے ڈی ایس سے کماراسوامی، ریونّا اورایس سوروپ ، اسی طرح بی جے پی سے کلیان راجیہ پرگتی پارٹی میں جمپ لگانے والے جناردھن ریڈی بھی جیت درج کرنے والوں میں شامل ہیں۔
بی جے پی کے جن اہم لیڈران کو شکست ہوئی، اُن میں بلاری کے سری راملو،چکنا ہلّی سے مدھوسوامی، مُدہول سے گوند کارجول، چکبالاپورکے سُدھاکر، ہوسکوٹے سے ایم ٹی بی ناگراج ، ہیریکور سے بی سی پاٹل، بیلاگی سے مُرگیش نیرانی، کے آر پیٹے سے کے سی نارائن گوڈا، ٹپٹور سے بی سی ناگیش، چکمنگلور سے سی ٹی روی اور ناولگنڈ سے شنکر پاٹل، چامراج پیٹ سے بینگلور کے سابق پولس کمشنر بھاسکر راو اہم نام ہیں۔اسی طرح بی جے پی سے کانگریس میں جمپ مارنے والے ہبلی دھارواڑ حلقہ کے کانگریسی اُمیدوار اور سابق وزیر اعلیٰ جگدیش شٹر کو بھی سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔